ابنا: دارالحکومت سميت مختلف شہروں ميں سنيچر کو بھي عوام نے مظاہروں کا سلسلہ جاري رکھا۔
اس رپورٹ کے مطابق مختلف جگہوں پر بحريني اور سعودي فوجيوں نے مظاہرين پر حملے کئے ہيں جن ميں کم سے کم ايک شہري کے شہيد اور متعدد کے زخمي ہونے کي خبر ہے۔
آل خليفہ اور آل سعود کے فوجيوں نے مظاہرين پر فائرنگ کي اور زہريلي آنسو گيس کے گولے پھينکے ہيں۔
مظاہرين فارمولا ون ريس منسوخ کئے جانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ بحرين کے عوام کا کہنا ہے کہ آل خليفہ حکومت ملک ميں فارمولا ون ريس کے ذريعے عوام کي انقلابي تحريک سے دنيا والوں کي توجہ ہٹانا چاہتي ہے۔ بحرين کے ولي عہد سلمان بن احمد آل خليفہ نے فارمولا ون ريس کے دوران سلامتي کي ضمانت دي ہے جبکہ بحرين کے ايک سيکورٹي ايڈوائزر جان ييٹس نے جن کا تعلق برطانيہ سے ہے اور وہ لندن کے اسسٹنٹ پوليس کمشنر رہ چکےہيں، کہا ہے کہ اس ميں دورائے نہيں کہ ہم فارمولاون ريس کے دوران سيکورٹي کي ضمانت نہيں دے سکتے۔
بحرين کے ولي عہد نے کہا ہے کہ اس ريس کے منسوخ ہونے سے مخالفين کي تقويت ہوگي اور ان کي تحريک ميں تيزي آئے گي۔
يہ ايسي حالت ميں ہے کہ انقلابيوں کے ايک رہنما شيخ عيسي قاسم نے کہا ہےکہ فارمولاون ريس ہو يا نہ ہو ، اس سے عوام کي انقلابي تحريک پر کوئي اثر نہيں پڑے گا اور يہ تحريک جاري رہے گي۔
.......
/169